Blog

اکبر کا عبادت خانہ

اکبر کا عبادت خانہ
تحریر: عارف حسین

مغل بادشاہ اکبر نے ۱۵۵۶ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ۱۵۷۵ء میں ایک جگہ کی بنیاد رکھی۔ جس کو عبادت خانہ کے نام سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اکبر وہاں ہر جمعہ کی رات کو مختلف مذاہب میں سے علماء اور دینی مشائخ کو بلاتا اور اُن کی درمیان گفتگو کو سنتا تھا۔ تا کہ اسطرح مذہبی مسائل کو قابو کیا جاسکے۔
مگر آخرکار جب اُس نے دیکھا کہ مسائل کم ہونے کے بجائے زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔ تو اُس نے عبادت خانہ میں سے دینی علماء کو ہٹا کر دانشوروں کے سپرد کردیا۔

ڈاکٹر مبارک علی جوکہ نامور تاریخ دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنی کتاب “تاریخ کی تلاش” میں لکھتے ہیں کہ چونکہ اسلام میں ۴ بیویاں جائز ہیں۔ اسلئے اکبر پر تنقیدیں ہونا شروع ہوگئی۔ کیونکہ اس نے زیادہ بیوئوں سے شادی کر رکھی تھی۔ اکبر نے اس مسئلہ کے حل کیلئے عبادت خانہ میں موجود دینی علماؤں سے رجوع کیا۔ اور انہیں حل تلاش کرنے کا حکم دیا۔

علماء نے بڑی سوچھ بچار کے بعد اس کا یہ حل نکالا کہ اسلام صرف ۴ نہیں بلکہ ۲ اور ۳، ۳ اور ۴ بیوئوں سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جوکہ ان کے مطابق ہرکوئی جمعاً ۹ بیوئوں سے شادی کوسکتا تھا۔
اسطرح ملّاؤں نے ڈر سے یا لالچ میں آکر سکہ کا رُخ بدل دیا۔ انہوں نے مسئلہ کو ایک مذہبی اور مقدس رنگ میں ملا کر بادشاہ کو تنقیدوں سے بچالیا۔ اور۴ شادیوں کو ۹ میں تبدیل کردیا۔

آج بھی اِردگرد دیکھتے ہوئے مجھے ایسے ہی ملّاؤں اور سیاستدانوں کے وجود میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی۔ جو ہروقت اپنے کالے کردار کو مقدس مذہبی اور قوم دوستی کی چادروں میں لپیٹ کر قوم کے مذہبی اور قوم دوست طبقوں کو ہروقت بے وقوف بنارہے ہیں۔ اور جب مقاصد کی بات آجائے تو خود بھی اور دوسروں کو بھی کافر بنا سکتے ہیں۔
اور ہمیشہ سے گرم خون نوجوانوں کیلئے اپنے آپ کو حجت بناکر اُن کی جذباتیت کو اپنے عمامہ یا مافتی کے حفاظت کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

اسلئے میرا خیال ہے کہ ہمیں چاہئے کہ کسی بھی شخص کو حجت ماننے سے پہلے کسی کی بھی ماں بہن کو گالی دئیے بغیر اُن کو حق، تاریخ اور کارکردگی کے ترازو میں تولے۔ اور پھر فیصلہ کرے کہ کون حجت بننے کا اہل ہے اور کون نہیں۔
جن کو اہلیت کا جواز حق پرستی اور کارکردگی کی بنیاد پر مل جائے اسے خوشامد کرے۔ اور جن کے نام کالی لسٹوں میں آئے اُنہیں اپنے دماغ اور دل کے عبادت خانوں سے نکال پھینکیں۔

نیسلن منڈیلا کا ایک قول ہے کہ “لیڈر اور سیاستدان میں فرق یہ ہے کہ لیڈر ہمیشہ عوام کی فکر میں اور سیاستدان اگلے الیکشن کی فکر میں ہوتا ہے۔” ہمیں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ آیا جن کو ہم لیڈر مانتے ہیں۔ کیا وہ سچ میں لیڈر ہیں بھی یا صرف مذہب اور قوم کے نام پر ووٹ مانگنے والے اور سیاست کے بازار چمکانے والے ہیں۔
ہمیں اس سوال کا جلد از جلد جواب تلاش کرلینا چاہئے۔ تاکہ خدانخواستہ کوئی ایسا دن دیکھنے کو نہ ملے کہ جس میں مشکلات عذاب کی شکل میں ہماری اگلی نسلوں میں سفر کرنا شروع کرے۔ اور لاعلاج مرض کی طرح ناحل پذیر ہوجائے۔

© 2017 Hazara Community Website.